قسمت میں ستارہ نہ سہی شام تو دے جا اے موج ِ ہوا پھر کوئ پیغام تو دے جا سانسوں نے اگر ساتھ میرا چھوڑ دیا تو آنکھوں کے چراغوں کو درو بام تو دے جا ٹھہرے ہوئے پانی میں گرا جا کوئی کنکر خاموش ندی کو کوئی پیغام تو دے جا کشکول میں خوشیوں کی اگر بھیک نہیں دی جینے کو یہ رنج و غم و آلام تو دے جا احساس کی ڈوری میں مجھے باندھنے والے بے نام سے رشتے کو کوئی نام تو دے جا گزرے ہوئے لمحوں کے پھٹے چاک سیئیں کیا اس ہجر میں آنکھوں کو کوئی کام تو دے جا یہ زیست کا افسانہ ادھورا ہے ابھی تک اس زیست کے افسانے کو انجام تو دے جا اے خواب ِ وصال آ میری آنکھوں میں ٹھہر جا اے نیند گھڑی پل مجھے آرام تو دے جا
تجهے عشق ہو خدا کرے کوئ تجهکو اس سے جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بهول جائیں تیری آنکھ پرنم رہا کرے تو اس کی باتیں کیا کرے تو اس کی باتیں سنا کرے اسے دیکھ کے تو رک پڑے وہ نظر جهکا کے چلا کرے تجهے ہجر کی ایسی جهڑی لگے تو ملن کی ہر پل دعا کرے تیرے خواب بکهریں ٹوٹ کر تو کرچی کرچی چنا کرے تو نگر نگر پهرا کرے تو گلی گلی صدا کرے تیرے سامنے تیرا گهر جلے تیرا بس چلے نہ بجھا سکے تیرے دل سے یہی دعا نکلے نہ گهر کسی کا جلا کرے تجهے عشق ہو پهر یقین ہو اسے تسبیحوں پہ پڑها کرے میں کہوں کہ عشق ڈهونگ ہے تو نہیں نہیں کیا کرے تجهے عشق ہو خدا کرے