تجهے عشق ہو خدا کرے
تجهے عشق ہو خدا کرے
کوئ تجهکو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بهول جائیں
تیری آنکھ پرنم رہا کرے
تو اس کی باتیں کیا کرے
تو اس کی باتیں سنا کرے
اسے دیکھ کے تو رک پڑے
وہ نظر جهکا کے چلا کرے
تجهے ہجر کی ایسی جهڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دعا کرے
تیرے خواب بکهریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پهرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گهر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے یہی دعا نکلے
نہ گهر کسی کا جلا کرے
تجهے عشق ہو پهر یقین ہو
اسے تسبیحوں پہ پڑها کرے
میں کہوں کہ عشق ڈهونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
تجهے عشق ہو خدا کرے
میری پسندیدہ غزل۔
ReplyDelete