Wednesday, 30 November 2016

تجهے عشق ہو خدا کرے

تجهے عشق ہو خدا کرے
کوئ تجهکو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بهول جائیں
تیری آنکھ پرنم رہا کرے
تو اس کی باتیں کیا کرے
تو اس کی باتیں سنا کرے
اسے دیکھ کے تو رک پڑے
وہ نظر جهکا کے چلا کرے
تجهے ہجر کی ایسی جهڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دعا کرے
تیرے خواب بکهریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پهرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گهر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے یہی دعا نکلے
نہ گهر کسی کا جلا کرے
تجهے عشق ہو پهر یقین ہو
اسے تسبیحوں پہ پڑها کرے
میں کہوں کہ عشق ڈهونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
تجهے عشق ہو خدا کرے


1 comment: