Wednesday, 30 November 2016

اے نیند گھڑی پل مجھے آرام تو دے جا

قسمت میں ستارہ نہ سہی شام تو دے جا
اے موج ِ ہوا  پھر کوئ پیغام تو  دے  جا
سانسوں نے اگر ساتھ میرا چھوڑ دیا تو
آنکھوں کے چراغوں کو درو بام تو دے جا
ٹھہرے ہوئے پانی میں گرا جا کوئی کنکر
خاموش ندی کو کوئی  پیغام  تو دے جا
کشکول میں خوشیوں کی اگر بھیک نہیں دی
جینے کو یہ رنج و غم و آلام تو دے جا
احساس کی ڈوری میں مجھے باندھنے والے
بے نام سے رشتے کو کوئی نام تو دے جا
گزرے ہوئے لمحوں کے پھٹے چاک سیئیں کیا
اس ہجر میں آنکھوں کو کوئی کام تو دے جا
یہ زیست کا افسانہ ادھورا ہے ابھی تک
اس زیست کے افسانے کو انجام تو دے جا
اے خواب ِ وصال آ میری آنکھوں میں ٹھہر جا
اے نیند گھڑی پل مجھے آرام تو دے جا


No comments:

Post a Comment