Wednesday, 14 April 2021

ہزاروں خواب مرتے ہیں تو اک مصرع نکلتا ہے

 ہزاروں خواب مرتے ہیں تو اک مصرع نکلتا ہے 

ذرا سوچو غزل کتنے جنازوں کی کمائی ہے 



No comments:

Post a Comment