Wednesday, 3 June 2015

شَبِ گُزشتہ عجب اِک عذاب دیکھا تھا
اُڑی تھی نیند مگر پھر بھی خواب دیکھا تھا
کسی کا نام نہیں تھا جو میں نے آخری بار
ورق اُلٹ کے محبت کا باب دیکھا تھا

No comments:

Post a Comment