توں خیالوں میں میرے اب بھی چلی آتی ہے
توں خیالوں میں میرے اب بھی چلی آتی ہے
اپنی پلکوں پہ اُن اشکوں کا جنازہ لے کر۔ ۔ ۔
توں نے نیندیں کیں قربان میری راہوں میں
میں نشے میں رہا غیروں کا سہارا لے کر۔ ۔ ۔
غم اٹھانے کے لیے میں تو جئیے جاؤں گا
سانس کی لہہ پہ نام تیرا لئے جاؤں گا
غم اٹھانے کے لئیے میں تو جیئے جاؤں گا
No comments:
Post a Comment