دلِ برباد کو , برباد کہاں تک رکھتے ؟
جانے والے تجھے ھم یاد کہاں تک رکھتے ؟
اب تیرے ھجر کی باتیں نہیں سنتا کوئی
اب لبوں پر تیری رُوداد کہاں تک رکھتے ؟
بڑی مشکل سےنکالا ھے تیری یادوں کو
اپنے گھر یں انہیں آباد کہاں تک رکھتے ؟
کارِ دُشوار تھا ، دوبارہ محبت لیکن
خود کو بیکار تِرے بعد ، کہاں تک رکھتے ؟
No comments:
Post a Comment