Saturday, 13 June 2015

سفر کا اختتام کر نہیں رہا

سفر کا اختتام کر نہیں رہا
ابھی تو میں قیام کر نہیں رہا

بنا رہا ہوں جو ابھی بنا نہیں
جو بن چکا ہے عام کر نہیں رہا

مزاجِ دشت ان دنوں عجیب ہے
کسی کا احترام کر نہیں رہا

کہیں سے بھی تو اُٹھ نہیں رہا دھواں
تو کیا یہ شہر شام کر نہیں رہا

ملا نہیں رہا وہ میرے غم میں غم
سکوں مرا حرام کر نہیں رہا

ہوا سے ہو رہی ہے گفتگو مری
شجر سے تو کلام کر نہیں رہا

بجھا نہیں رہا چراغ نیم ِ شب
ابھی سخن تمام کر نہیں رہا

No comments:

Post a Comment