رات بھی نیند بھی، کہانی بھی
ہاۓ کیا چیز ہے جوانی بھی
اس ادا کا تیری جواب نہیں
مہربانی بھی سرگرانی بھی
دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا کے
کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی
لاکھ حسن یقیں سے بڑھ کر ہے
اپنی نگاہ کی بدگمانی بھی
دیکھ دل کے نگار خانے میں
زخم پنہاں کی ہے نشانی بھی
خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتی
کچھ سنوں میں تیری زبانی بھی
اپنی معصومیوں کے پردے میں
ہو گئی وہ نظر سیانی بھی
دن کو سورج مکھی ہے وہ نو گل
رات کو وہ ہے رات رانی بھی
زندگی عیش دید یار فراق
زندگی ہجر کی کہانی بھی
No comments:
Post a Comment