سُنو !اے چاند سی لڑکی
ابھی
تَم کہ رہی تھی نا۔
تمیں مجھ سے محبت ہو نہیں سکتی
چلو مانا کہ یہ سچ ہے
مگر اے چاند سی لڑکی مجھے اتنا بتاؤتم
کہ جب موسم بدلتے ہیں۔
گُلوں میں رنگ بھرتے ہیں تو پھر کیوں مضطرب ہوکر ۔
اکیلےپن سے گھبراکر ہوا کو راز دیتی ہو۔
مُجھے آواز دیتی ہو ۔
سُنو اے چاند سی لڑکی ۔
تمہارے سامنے کوئی میراجب
نام لیتا ہے
تو پھو کیوں چونک جاتی ہو ۔
چلو مانا تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہو سکتی
مگر اتنا سمجھ لو تم جہاں چاھت نہیں ہوتی
وہاں نفرت کے ہونے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا
میرا دعوہ ہے چاھت میں
جہاں نفرت نہیں ہوتی
وہاں اکثر یہ دسکھا ہے
اگر کُچھ وقت کٹ جائے
سمے کی دُھول چھٹ جائے
تو وحشت بھاگ جاتی ہے
مُحبت جاگ جاتی ہے
مُحبت جاگ جاتی ہے
No comments:
Post a Comment