Thursday, 4 June 2015

دِل صورت ہے اب یار کی ' اور جسم پِرویا عشق میں
مِرا حُسن مکمّل ہو گیا ' مَیں اِتنا رویا عشق میں
مَیں پاپی ' کوڑھی عشق کا ' مَیں کَمّی اپنے یار کا
مِری ساری مَیل اُتار دی ' سرکار نے دھویا عشق میں
مَیں شور زدہ اِک خاک تھا ' مِرا وارث مجھ میں آ بسا
مِرے آنسو میٹھے ہو گئے ' مَین اِتنا رویا عشق میں
مِرا رنگ سُنہری گندُمی ' مِری سروری قادری چال ہے
اِک یاد ہے میری زندگی ' مَیں جاگا سویا عشق میں .

No comments:

Post a Comment