Friday, 5 June 2015

چلے جاتے ہیں

درد کچھ اور بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
لوگ بس اپنی سناتے ہیں چلے جاتے ہیں
پھر خدا جانے، ہوا جانے، زمانہ جانے
ہم فقط دیپ جلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
خاک میں خاک ملانے کو چلے آئے تھے
خاک میں خاک ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں

No comments:

Post a Comment