زوق اردو
Friday, 5 June 2015
چلے جاتے ہیں
درد کچھ اور بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
لوگ بس اپنی سناتے ہیں چلے جاتے ہیں
پھر خدا جانے، ہوا جانے، زمانہ جانے
ہم فقط دیپ جلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
خاک میں خاک ملانے کو چلے آئے تھے
خاک میں خاک ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں
No comments:
Post a Comment
Newer Post
Older Post
Home
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment