دل میں دھڑکن کا سمندر نہیں رکھا جاتا
آنکھ میں ہجر کا منظر نہیں رکھا جاتا
اتنا محدود ہوا ہوں کہ کسی بھی صورت
خود کو اس جسم سے باہر نہیں رکھا جاتا
ایک لمحہ کہ جو صدیوں ہو تو کم لگتا ہے
ایک موسم کہ جو پل بھر نہیں رکھا جاتا
کون سمجھاۓ میرے کانچ کے شہزادے کو
ساتھ گلدان کے پتھر نہیں رکھا جاتا
No comments:
Post a Comment