Saturday, 6 June 2015

دل میں دھڑکن کا سمندر نہیں رکھا جاتا

دل میں دھڑکن کا سمندر نہیں رکھا جاتا
آنکھ میں ہجر کا منظر نہیں رکھا جاتا

اتنا محدود ہوا ہوں کہ کسی بھی صورت
خود کو اس جسم سے باہر نہیں رکھا جاتا

ایک لمحہ کہ جو صدیوں ہو تو کم لگتا ہے
ایک موسم کہ جو پل بھر نہیں رکھا جاتا

کون سمجھاۓ میرے کانچ کے شہزادے کو
ساتھ گلدان کے پتھر نہیں رکھا جاتا

No comments:

Post a Comment