Wednesday, 3 June 2015

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پر آنکھیں ہر شام
شاید اس رات وہ مہتاب لبِ جو آئے
ہم تیری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر
راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے
آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیا
جشنِ غم طاری ہوا آنکھ میں آنسو آئے

No comments:

Post a Comment