Sunday, 23 October 2016

لبوں پہ حرف نہ کوئی سوال رکھتا تھا

لبوں پہ حرف نہ کوئی سوال رکھتا تھا
کبھی ضبط میں اتنا کمال رکھتا تھا
خبر کہاں تھی وہ مجھے بھول جائے گا
اک اک چیز جو میری سنبھال رکھتا تھا
بچھرتے وقت بظاہر تو کچھ نہ بولا
مگر نگاہ میں سو سو سوال رکھتا تھا
سنا ہے لوگ اسے اب بہت ستاتے ہیں
جس اک شخص کا میں اتنا خیال رکھتا تھا

No comments:

Post a Comment