لبوں پہ حرف نہ کوئی سوال رکھتا تھا
کبھی ضبط میں اتنا کمال رکھتا تھا
خبر کہاں تھی وہ مجھے بھول جائے گا
اک اک چیز جو میری سنبھال رکھتا تھا
بچھرتے وقت بظاہر تو کچھ نہ بولا
مگر نگاہ میں سو سو سوال رکھتا تھا
سنا ہے لوگ اسے اب بہت ستاتے ہیں
جس اک شخص کا میں اتنا خیال رکھتا تھا
No comments:
Post a Comment