کوئی ایسا پل بھی ہوا کرے
میں کہوں تو بس وہ سنا کرے
میری فرصتین میرے مشغلے
سبھی اپنے نام کیا کرے
کوئی بات ہو کسی شام کی
کوئی ذکر ہو کسی رات کا
جو سنانے بیٹھوں اسے کبھی
وہ سنے تو سن کے ہنسا کرے
جو میں کہوں چلو اس نگر
جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو
وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف
اور مجھ کو پاگل کہا کرے
No comments:
Post a Comment