Wednesday, 3 June 2015

دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی کفار مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں وہ ان سے یہ نہیں پوچھتے کہ ان کا تعلق کس فرقے سے ہے وہ صرف انہیں مسلمان ہونے کی سزا دیتے ہیں۔ برما، فلسطین، بوسنیا، کشمیر، افغانستان اور دنیا بھر میں ان کو صرف اور صرف مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ جبکہ آج کا مسلمان تفرقے بازی اور فرقے بازی میں پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی ساکھ اور اجتماعی مضبوطی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ حضرت محمدﷺ نے اپنے آخری خطبہ حجة الوداع میں فرمایا تھا کہ کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں مگر آج امت مختلف فرقوں میں بٹ کر اپنی ہی کمزوری کا سامان پیدا کر رہی ہے جس کا تمام تر فائدہ کفار اٹھا رہے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس پیغمبر کی امت میں سے ہیں جس کا امتی ہونے کے لئے انبیاءاکرام نے خود دعائیں کی ہیں مگر ہم اپنے آپ کو مختلف رنگوں نسلوں اور فرقوں میں تقسیم کرتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ یہ تقسیم ہزاروں سال قبل ختم کر دی گئی اور اسلام کا ایک ایسا آفاقی نظام نافذ العمل کیا گیا تھا جس کی مثال نہ ہی دنیا کی تاریخ میں مل سکتی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ملے گی۔ امام حنبلؒ کو خلیفہ وقت روز کوڑے مرواتا تھا اور وہ اسے روز معاف کر دیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ خلیفہ کو روز کیوں معاف کر دیتے ہیں تو آپؒ نے فرمایا کہ میں اسے اس لئے معاف کر دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ کا کوئی امتی روز محشر میری وجہ سے عذاب اور سزا میں مبتلا نہ ہو۔ گویا اسلام کا یہ تصور ہے اور امت محمدیﷺ کا یہ فیضان ہونا چاہئے کہ ہم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھیں۔ اسلام پیار و محبت اور بھائی چارے کا جو درس دیتا ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ رمضان المبارک کو باقی سال کے تمام مہینوں پر فوقیت حاصل ہے اگر اس ماہ صیام میں ہم عہد کریں اور اپنے نفس کا جہاد شروع کرتے ہوئے فرقہ واریت جیسے زہرقاتل کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنے کا عہد کر لیں تو کوئی شک نہیں کہ مسلم امہ نہ صرف ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہو بلکہ ماضی کا وہ شاندار اور سنہری دور جو مسلمانوں کے نصیب میں ہوا کرتا تھا وہ ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کا مقدر بن جائے۔ آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے آپس میں عدم اتفاق کی وجہ سے عراق‘ افغانستان‘ بوسنیا‘ چیچنیا‘ فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ اب برما میں مسلمان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں اور ماہ جون سے لے کر اب تک ایک رپورٹ کے مطابق بیس ہزار سے زائد برمی مسلمانوں کا قتل عام برمی فوج‘ پولیس اور برما کے انتہاپسند بدھ مت کے پیروکاروں کی طرف سے کیا جا چکا ہے۔ اگر مسلمان آپس میں اتحاد پیدا کریں تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اپنا حقیقی اور اسلامی کردار ادا کریں تو کوئی شک نہیں دنیا میں اسلام کا بول بالا اور حکمرانی قائم ہو اس مقصد کے لئے تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف جہاد کا علم سربلند کرنا ہو گا۔ اپنے آپ کو امت محمدیہ ثابت کرنے کے لئے تمام رنگ نسل اور فرقے کے تفرقات کو مٹا کر ایک ثابت کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ یہی وقت کا اصل تقاضا اور ایمان کی روح ہے۔

No comments:

Post a Comment