Wednesday, 3 June 2015

فرض کرو تم کچھ نا پاؤ
اپنا آپ لٹا کر بھی
فرض کرو کوئ مکر ہی جاۓ
سچی قسم اٹھا کے بھی
فرض کرو یہ فرض نہ ہو
سچی ایک حقیقت ھو
تیرے عشق کے ہر رستے پر
جاناں ایک قیامت ہو
اور سنا ہے
یہ قیامت
خون جگر کا پیتی ہے
تم تو جاناں فرض کرو گے
ھم پر یہ سب
( بیتی ) ہے

No comments:

Post a Comment