کبھی یاد آئے تو پوچھنا
ذرا اپنی جلوت شام سے
کسے عشق تھا تیری ذات سے
کسے عشق تھا تیرے نام سے
ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا
وہ جو جی اٹھا تیرے نام سے
وہ جو مر مٹا تیرے نام سے
ہمیں بے رخی کا نہیں گلا
کہ یہی وفائوں کا ہے صلہ
مگر ایسا جرم تھا کونسا
گئے ہم دعا و سلام سے
نا کبھی وصال کی چاہ کی
نا کبھی فراق میں آہ کی
کہ میرا طریقہ بندگی
ہے جدا طریقہ عام سے ...!!
Awesome... speechless
ReplyDelete