Monday, 1 June 2015

کبھی یاد آئے تو پوچھنا
ذرا اپنی جلوت شام سے
کسے عشق تھا تیری ذات سے
کسے عشق تھا تیرے نام سے
ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا
وہ جو جی اٹھا تیرے نام سے
وہ جو مر مٹا تیرے نام سے
ہمیں بے رخی کا نہیں گلا
کہ یہی وفائوں کا ہے صلہ
مگر ایسا جرم تھا کونسا
گئے ہم دعا و سلام سے
نا کبھی وصال کی چاہ کی
نا کبھی فراق میں آہ کی
کہ میرا طریقہ بندگی
ہے جدا طریقہ عام سے ...!!

1 comment: