Saturday, 13 June 2015

سنو
میں تھک گئی ہوں
میری پلکوں پہ اب تک کچھ ادھورے خواب جلتے ہیں
میری نیندوں میں تیرے وصل کا ریشم الجھتا ہے
میرے آنسو میرے چہرے پہ تیرے غم کو لکھتے ہیں
مرے اندر کئی صدیوں کے سناٹوں کا ڈیرہ ہے
مرے الفاظ بانہیں وا کیے مجھ کو بلاتے ہیں
مگر میں تھک گئی ہوں
اور میں نےخامشی کی گود میں سر رکھ دیا ہے
اور بالوں میں تمہارے ہجر کی نرم انگلیاں محسوس کرتی ہوں
مری پلکوں پہ جلتے خواب ہیں اب راکھ کی صورت
تمہارے وصل کا ریشم بھی اب نیندیں نہیں بنتا
مری آنکھوں میں جیسے تھر کے موسم کا بسیرا ہے
مجھے اندر کے سناٹوں میں گہری نیند آتی ہے
سنو
اس یاد سے کہہ دو
مجھے کچھ دیر سونے دے

 

No comments:

Post a Comment