Wednesday, 1 July 2015

چلو ایسا کریں مل کے ستارے بانٹ لیتے ہیں
ضرورت کے مطابق سب سہارے بانٹ لیتے ہیں
.
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارےبانٹ لیتے ہیں
.
اگر ملنا نہیں ممکن تو لہروں پہ قدم رکھ کر
ابھی دریائے الفت کے کنارے بانٹ لیتے ہیں
.
میری جھولی میں جتنے بھی وفا کے پھول ہیں انکو
اکٹھے بیٹھ کر اک روز سارے بانٹ دیتے ہیں
.
محبت کے علاوہ پاس اپنے کچھ نہیں فراز
اسی دولت کو ہم قسمت کے مارے بانٹ لیتے ہیں

No comments:

Post a Comment